میرا نام شاہ علی فرزند ہے، اور میں مانسہرہ کی خوبصورت وادی، پیراں خیرآباد کا ایک گمنام خادم ہوں۔ میری جڑیں ایک ایسے خانوادے سے جڑی ہوئی ہیں جس کی بنیاد دینی تعلیم، علمِ معرفت اور خدمتِ خلق پر استوار ہے۔ میرے والدِ محترم، سید دوران شاہ بخاری، ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کے فروغ اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ ان کی پیدائش 1930 کے قریب خیرآباد پٹییاں میں ہوئی۔ وہ پانچ بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے، جہاں ان کے بڑے بھائی سید محمود شاہ اور چھوٹے بھائی سید فرقان شاہ، سید سلطان شاہ، اور سید مخدوم شاہ تھے۔
والد کی دینی خدمات
میرے والد نے بچپن سے ہی مختلف مدارس میں دینی تعلیم حاصل کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر نہ صرف علمِ دین کا نور عطا فرمایا بلکہ انہیں معرفت کی لازوال روشنی سے بھی سرفراز کیا۔ 1980 میں انہوں نے ڈھوڈیال دلاک کو اپنی خدمات کا مرکز بنایا اور وہاں دینِ اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔
تعلیمی سفر
میری پیدائش بفہ کلہاڑے شرقی میں ہوئی، اور جب ہم ڈھوڈیال منتقل ہوئے، تو میری عمر تقریباً پانچ سال تھی۔ میری ابتدائی تعلیم کا آغاز گورنمنٹ پرائمری اسکول بیدادی اور کنڈر بیدادی سے ہوا۔ بعد ازاں، میں نے گورنمنٹ مڈل اسکول شنئی بالا ڈھوڈیال اور ہائر سیکنڈری اسکول ڈھوڈیال سے تعلیم حاصل کی۔ میری تربیت کے دوران والدِ محترم نے دینی تعلیم کے زیور سے بھی مجھے آراستہ کیا۔
صحافت میں قدم
ابتدائی تعلیم کے دوران ہی میرے دل میں اپنے علاقے کے مسائل کو اجاگر کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ، میں صحافت کے میدان میں بھی اپنی آواز بلند کروں گا۔ والدِ محترم کی رہنمائی اور اجازت سے، میں نے روزنامہ شمال میں بطور نامہ نگار اپنا صحافتی سفر شروع کیا۔ یہ سفر محض پیشہ ورانہ نہیں بلکہ خدمتِ خلق کی ایک صورت تھی۔
والد کی وفات اور جدوجہد کا نیا باب
میرے والد محترم 13 جنوری 2001 کو مختصر علالت کے بعد اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے بعد، 2002 میں، میں اپنے آبائی گاؤں خیرآباد منتقل ہوا۔ لیکن وقت کی تلخیوں اور حالات کی ناہمواریوں نے مجھے گاؤں چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ میں نے اسلام آباد کا رخ کیا، جہاں ایک نئی جدوجہد کا آغاز ہوا۔
مقاصد اور خدمات
میری زندگی کا سب سے بڑا مقصد اپنے والدِ محترم کے مشن کو آگے بڑھانا ہے۔ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے، میں دینی اور روحانی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ اس کے ساتھ، صحافت کے میدان میں رہ کر میں اپنے علاقے اور معاشرے کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں تاکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔
یہ مختصر تعارف میری زندگی کی جدوجہد، میرے خواب، اور میرے عزم کا آئینہ دار ہے۔ میری ہر کاوش اس مقصد کی تکمیل کے لیے ہے کہ میں اپنی ذات کو دوسروں کے لیے نافع بنا سکوں اور اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دین و دنیا کی خدمت کر سکوں۔


No comments:
Post a Comment