Shah Ali Farzand is a professional Journalist and News Editor at Daily Payam-e-Khyber. Founder of Hazara TV Network, covering regional news, social issues,and administrative reforms in Hazara Division.

test

Thursday, April 9, 2026

شیعہ سنی اختلاف سے اتحاد تک: ایک نئی فکری حقیقت اور وقت کی ضرورت

(شاہ علی فرزند کے قلم سے) عالم اسلام اس وقت ایک ایسے نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جہاں تاریخ خود اپنے آپ کو نئے انداز میں لکھتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے ایران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جنگی ماحول نے جہاں عالمی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا وہیں ایک ایسا پہلو بھی سامنے آیا جس نے امت مسلمہ کے اندر برسوں سے چلے آنے والے فکری اور مسلکی فاصلے کو غیر محسوس طریقے سے کم کرنا شروع کر دیا ہے یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ صدیوں سے شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافات کو اس انداز میں پیش کیا جاتا رہا جیسے یہ ایک ناقابل عبور خلیج ہو حالانکہ اگر قرآن و سنت کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ اختلافات بنیادی عقائد سے زیادہ تعبیر اور فہم کے دائرے میں آتے ہیں لیکن افسوس کہ دشمنان اسلام نے ہمیشہ ان اختلافات کو ہوا دے کر امت کو کمزور کرنے کی کوشش کی تاکہ مسلمان کبھی ایک مضبوط قوت کے طور پر نہ ابھر سکیں مگر حالیہ حالات نے ایک نیا شعور پیدا کیا ہے جب ایران پر دباؤ بڑھا جب اسرائیل کی جانب سے جارحیت کی خبریں آئیں اور جب امریکہ جیسے عالمی طاقتوں کا کردار واضح ہوا تو دنیا بھر کے مسلمانوں نے ایک لمحے کے لیے رک کر یہ سوچنے پر خود کو مجبور پایا کہ اصل دشمن کون ہے اور اصل مسئلہ کیا ہے یہاں ایک بہت بڑی حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ جو اختلافات ہمیں ایک دوسرے سے دور کر رہے تھے وہ اس قدر بنیادی نہیں جتنے ہمیں باور کروائے گئے سوشل میڈیا علمی حلقوں اور عوامی گفتگو میں یہ بات تیزی سے ابھر کر سامنے آئی کہ شیعہ اور سنی دونوں کا کلمہ ایک ہے قرآن ایک ہے نبی ایک ہیں قبلہ ایک ہے اور دشمن بھی مشترک ہے یہ احساس خود بخود ایک ایسے فکری انقلاب کی بنیاد بن رہا ہے جسے روایتی تعصبات زیادہ دیر تک روک نہیں سکتے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو یہ آیت آج کے حالات میں ایک زندہ پیغام بن کر سامنے آئی ہے جب بیرونی خطرات دروازے پر دستک دے رہے ہوں تو اندرونی تقسیم خودکشی کے مترادف بن جاتی ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں بعض عناصر نے جان بوجھ کر شیعہ سنی اختلافات کو اس حد تک بڑھایا کہ ایک عام مسلمان کے ذہن میں دوسرے مسلک کے لیے نفرت پیدا ہو جائے لیکن موجودہ حالات نے اس بیانیے کو کمزور کرنا شروع کر دیا ہے اب لوگ سوال کر رہے ہیں تحقیق کر رہے ہیں اور اندھی تقلید کے بجائے حقیقت کو جاننے کی کوشش کر رہے ہیں یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہیں ہوگا کہ اس کشیدگی نے ایک نئے اتحاد کی بنیاد رکھ دی ہے اگرچہ یہ اتحاد ابھی مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوا مگر اس کی جھلک واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے مساجد مدارس اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے لیے نرم گوشہ پیدا ہو رہا ہے اور یہ احساس مضبوط ہو رہا ہے کہ ہم سب ایک ہی امت کا حصہ ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موقع کو ضائع نہ ہونے دیا جائے علماء دانشور اور میڈیا اپنا مثبت کردار ادا کریں اور امت کو جوڑنے کا کام کریں نہ کہ توڑنے کا اختلاف رائے اپنی جگہ مگر اسے دشمنی میں بدل دینا نہ دین کی خدمت ہے اور نہ امت کی اگر آج بھی ہم نے ہوش نہ کیا اور ان مصنوعی اختلافات میں الجھے رہے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی لیکن اگر ہم نے اس موقع کو پہچان لیا اور اتحاد کا راستہ اختیار کر لیا تو یہی بحران امت مسلمہ کے لیے ایک نئی صبح ثابت ہو سکتا ہے یہ وقت ہے کہ ہم اپنے دلوں سے نفرتوں کو نکالیں ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ ہماری طاقت اتحاد میں ہے نہ کہ اختلاف میں کیونکہ جب امت ایک ہو جاتی ہے تو کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی اور جب امت تقسیم ہو جائے تو وہ خود اپنی کمزوری بن جاتی ہے آج کا سبق بالکل واضح ہے دشمن ہمیں تقسیم دیکھنا چاہتا ہے اور ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ ہم متحد ہو جائیں

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages